AMK-Kullu

روس اور ہندوستان ریوریخ خاندان کے ورثے کو محفوظ رکھنے میں تعاون بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں: روس کے سفیر الیکساندر کداکین

Wednesday, 06 November 2013 07:30
روس اور ہندوستان کا منصوبہ ہے کہ ریوریخ خاندان کے ورثے کو محفوظ رکھنے کی خاطر دوطرفہ تعاون بڑھائیں۔ ہندوستان میں روس کے سفیر الیکساندر کداکین نے ریڈیو صدائے روس کو دئے گئے انٹرویو میں کہا کہ یہ بات اصولی اہمیت کی حامل ہے کہ دونوں فریقوں کے اعلیٰ رہنماؤں پر واضح ہے کہ اس میدان میں اجتماعی کوششوں میں تیزی لائے جانے کی ضرورت ہے۔ باہمی مفاہمت سے سن 2014 میں پیش آنے والے دو اہم واقعات یعنی نکولائی ریوریخ کی 140 ویں سالگرہ اور سویاتوسلاو ریوریخ کی 110 ویں سالگرہ کے موقع پر تقریبات کی تیاریوں میں ہمہ گیر تعاون کے لیے سازگار حالات پیدا کئے جانے میں مدد ملے گی، روس کے سفیر نے کہا۔ ان کے مطابق ہمارا مقصد ان دو سالگرہوں کے موقع پر ثقافتی اور سائنسی سرگرمیوں کا ایک سلسلہ منعقد کرنا ہے تاکہ روس کے ان دو عظیم فرزندوں کو خراج عقیدت پیش کیا جا سکے جنہیں عالمی تہذیب میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔
روس کے سفیر الیکساندر کداکین نے بتایا کہ اکیس اکتوبر کو ماسکو میں ہوئی روس ہند سربراہی ملاقات میں ریوریخ خاندان کے ورثے کو محفوظ رکھنے اور اس کو فروغ دینے کے امکانات پر خاص توجہ دی گئی۔ کریملن میں صدر روس ولادی میر پوتین اور وزیر اعظم ہند من موہن سنگھ کے درمیان مذاکرات میں، جن میں دونوں ممالک کے وفود کے اراکین بھی موجود تھے، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروو نے دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے عملی اقدامات کئے جانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس سلسلے میں مغربی ہمالیہ میں، نگّر میں واقع میوزیم کمپلکس قابل ذکر ہے جو غیرممالک میں روس کے روحانی، ثقافتی اور سائنسی ورثے کی ایک انوکھی یادگار ہے۔ علاوہ ازیں یہ مرکز روس ہند ثقافتی تعاون کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، ہر سال ریوریخ خاندان کے سینکڑوں روسی اور ہندوستانی پرستار یہ میوزیم کمپلکس دیکھنے آتے ہیں۔ روس اس میدان میں بین حکومتی تعاون کو بہت اہمیت دیتا ہے جس میں بین حکومتی کمیشن برائے ثقافتی تعاون کے تحت قائم ورکنگ گروپ اور متعلقہ وزارتوں کو کلیدی کردار ادا کرنا چاہئے جبکہ روس اور ہندوستان کے سفراء کو رابطہ کاروں کا کردار ادا کرنا چاہئے۔
ہندوستان کے حکام بحیثیت مجموعی روس کے مذکورہ موقف سے متفق ہیں۔ روس ہند سمٹ سے پہلے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اور ولادی میر پوتین کے ساتھ مذاکرات کے دوران ہندوستان کے وزیر اعظم من موہن سنگھ نے بیان دیا کہ ہندوستان میں واقع ریوریخ خاندان کا ورثہ ہندوستان اور روس دونوں کا بیش قیمت خزانہ ہے۔ ہندوستان کے وزیر اعظم نے کہا کہ ہم اس ثقافتی ورثے کی حفاظت اور اس کے فروغ کے لیے تمام ضروری اقدامت کرتے رہیں گے۔
ہندوستان میں روس کے سفیر الیکساندر کداکین کے مطابق اس مقصد کے حصول کی خاطر نگر میں واقع ریوریخ میموریل ٹرسٹ کی سرگرمیوں میں روس اور ہندوستان کی وزارتوں اور دیگر مرکزی اداروں کی شرکت بڑھائے جانے کی ضرورت ہے۔ خیال رہے کہ روس کے سفیر الیکساندر کداکین مذکورہ ٹرسٹ کے بانی اور نائب صدر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روس ہند تعاون کو اعلیٰ سطح تک پہنچانا ہوگا تاکہ مقامی حکام کی نوکرشاہی اس میں حائل نہ ہو بلکہ یہ تعاون اعلیٰ بین الاقوامی معیاروں پر پورا اترے۔ نگر میں واقع ریوریخ خاندان کا میموریل کمپلکس ایک مثالی ثقافتی، روحانی، سائنسی و تعلیمی مرکز ہونا چاہئے، روس کے سفیر نے یقین سے کہا۔
The Voice of Russia
November 1, 2013

روس اور ہندوستان کا منصوبہ ہے کہ ریوریخ خاندان کے ورثے کو محفوظ رکھنے کی خاطر دوطرفہ تعاون بڑھائیں۔ ہندوستان میں روس کے سفیر الیکساندر کداکین نے ریڈیو صدائے روس کو دئے گئے انٹرویو میں کہا کہ

روس اور ہندوستان کا منصوبہ ہے کہ ریوریخ خاندان کے ورثے کو محفوظ رکھنے کی خاطر دوطرفہ تعاون بڑھائیں۔ ہندوستان میں روس کے سفیر الیکساندر کداکین نے ریڈیو صدائے روس کو دئے گئے انٹرویو میں کہا کہ یہ بات اصولی اہمیت کی حامل ہے کہ دونوں فریقوں کے اعلیٰ رہنماؤں پر واضح ہے کہ اس میدان میں اجتماعی کوششوں میں تیزی لائے جانے کی ضرورت ہے۔ باہمی مفاہمت سے سن 2014 میں پیش آنے والے دو اہم واقعات یعنی نکولائی ریوریخ کی 140 ویں سالگرہ اور سویاتوسلاو ریوریخ کی 110 ویں سالگرہ کے موقع پر تقریبات کی تیاریوں میں ہمہ گیر تعاون کے لیے سازگار حالات پیدا کئے جانے میں مدد ملے گی، روس کے سفیر نے کہا۔ ان کے مطابق ہمارا مقصد ان دو سالگرہوں کے موقع پر ثقافتی اور سائنسی سرگرمیوں کا ایک سلسلہ منعقد کرنا ہے تاکہ روس کے ان دو عظیم فرزندوں کو خراج عقیدت پیش کیا جا سکے جنہیں عالمی تہذیب میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔

روس کے سفیر الیکساندر کداکین نے بتایا کہ اکیس اکتوبر کو ماسکو میں ہوئی روس ہند سربراہی ملاقات میں ریوریخ خاندان کے ورثے کو محفوظ رکھنے اور اس کو فروغ دینے کے امکانات پر خاص توجہ دی گئی۔ کریملن میں صدر روس ولادی میر پوتین اور وزیر اعظم ہند من موہن سنگھ کے درمیان مذاکرات میں، جن میں دونوں ممالک کے وفود کے اراکین بھی موجود تھے، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروو نے دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے عملی اقدامات کئے جانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس سلسلے میں مغربی ہمالیہ میں، نگّر میں واقع میوزیم کمپلکس قابل ذکر ہے جو غیرممالک میں روس کے روحانی، ثقافتی اور سائنسی ورثے کی ایک انوکھی یادگار ہے۔ علاوہ ازیں یہ مرکز روس ہند ثقافتی تعاون کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، ہر سال ریوریخ خاندان کے سینکڑوں روسی اور ہندوستانی پرستار یہ میوزیم کمپلکس دیکھنے آتے ہیں۔ روس اس میدان میں بین حکومتی تعاون کو بہت اہمیت دیتا ہے جس میں بین حکومتی کمیشن برائے ثقافتی تعاون کے تحت قائم ورکنگ گروپ اور متعلقہ وزارتوں کو کلیدی کردار ادا کرنا چاہئے جبکہ روس اور ہندوستان کے سفراء کو رابطہ کاروں کا کردار ادا کرنا چاہئے۔

ہندوستان کے حکام بحیثیت مجموعی روس کے مذکورہ موقف سے متفق ہیں۔ روس ہند سمٹ سے پہلے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اور ولادی میر پوتین کے ساتھ مذاکرات کے دوران ہندوستان کے وزیر اعظم من موہن سنگھ نے بیان دیا کہ ہندوستان میں واقع ریوریخ خاندان کا ورثہ ہندوستان اور روس دونوں کا بیش قیمت خزانہ ہے۔ ہندوستان کے وزیر اعظم نے کہا کہ ہم اس ثقافتی ورثے کی حفاظت اور اس کے فروغ کے لیے تمام ضروری اقدامت کرتے رہیں گے۔

ہندوستان میں روس کے سفیر الیکساندر کداکین کے مطابق اس مقصد کے حصول کی خاطر نگر میں واقع ریوریخ میموریل ٹرسٹ کی سرگرمیوں میں روس اور ہندوستان کی وزارتوں اور دیگر مرکزی اداروں کی شرکت بڑھائے جانے کی ضرورت ہے۔ خیال رہے کہ روس کے سفیر الیکساندر کداکین مذکورہ ٹرسٹ کے بانی اور نائب صدر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روس ہند تعاون کو اعلیٰ سطح تک پہنچانا ہوگا تاکہ مقامی حکام کی نوکرشاہی اس میں حائل نہ ہو بلکہ یہ تعاون اعلیٰ بین الاقوامی معیاروں پر پورا اترے۔ نگر میں واقع ریوریخ خاندان کا میموریل کمپلکس ایک مثالی ثقافتی، روحانی، سائنسی و تعلیمی مرکز ہونا چاہئے، روس کے سفیر نے یقین سے کہا۔

The Voice of Russia

November 1, 2013

Popular articles

13 October 2011

NPP Kudankulam constructed in india meets...

    NPP Kudankulam, which is being constructed in India with Russian assistance, meets all international safety requirements and the people of Tamil Nadu...
19 August 2011

IAF's Sukhoi jets to be upgraded to fifth...

     India's air superiority Sukhoi-30MKI fighters will soon be converted into 'Super Sukhois' by upgrading them with fifth generation combat jet...
08 August 2011

Kudankulam gets Uranium for next 5 years

       The Kudankulam Nuclear Plant has received uranium fuel bundles from Russia for the next five years as the plant needs 25-30 tonnes of fuel per year...
Emergency phone number only for the citizens of Russia in emergency in India +91-81-3030-0551
Address:
Shantipath, Chanakyapuri,
New Delhi - 110021
Telephones:
(91-11) 26873799; 26889160;
Fax:
(91-11) 26876823
E-mail:
This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.